Followers

Monday, January 30, 2023

ہندوستان کو خواجہ غریب نواز کی ضرورت کیوں تھی ؟

https://youtube.com/@mtrmanzari


 ہندوستان دنیا کا وہ قدیم اسلامی و تاریخی ملک ہے کہ

 بجز مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ کے کوئی دوسرا ملک شرافت اور بزرگی کے لحاظ سے اس کا ہم پلہ نہیں۔ یہی دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جہاں ابو بشر حضرت آدم علیہ السلام جنت سے نازل ہوئے۔ اولاد پیدا ہوئی مسلسل بڑھی اور رفتہ رفتہ دنیا میں پھیلی ۔ حضرت آدم علیہ السلام مسلمان تھے۔ خدا کے سچے نبی تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کوہ سراندیپ پر اذان دی۔ ہندوستان کے بلند پہاڑ کی چوٹی سے توحید و رسالت کی صدا بلند ہوئی۔

ہندوستان کو خواجہ غریب نواز کی ضرورت کیوں تھی ؟

حضرت آدم علیہ السلام کے دولڑکے کے قابل وہابیل تھے۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا دنیا میں معصیت کی بنیاد ڈالی اور حضرت آدم علیہ السلام کے انتقال کے بعد اسلام ترک کر کے کفر اختیار کیا۔ اسی زمانے سے اولاد آدم میں دو مذہب کفر و اسلام پیدا ہو گئے جو آج تک بلکہ تا قیامت باقی اور موجود رہیں گے۔

Dini Maalumat Sunne ke liye Click Kren

شیطان چونکہ عہد کر چکا تھا کہ اولاد آدم کو گمراہ کئے بغیر چین سے نہ بیٹھوں گا۔ یہ موقع اس کیلئے مناسب تھا لوگوں کو بت پرستی، ستارہ پرستی آتش پرستی میں مبتلا کر دیا۔ اولاد آدم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ کچھ لوگ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے مذہب پر قائم رہے کچھ بت پرست ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے مظاہر پرستی شروع کر دی۔ ان مختلف جماعتوں کے معتقدات میں چونکہ بنیادی اختلاف تھے اس لئے ارباب مذاہب میں عداوت کی بنیاد پڑگئی۔


اس حالت کو دیکھتے ہوئے حق تعالیٰ نے گمراہ لوگوں کی ہدایت کیلئے حسب ضرورت انبیاء کرام بھیجنے شروع کئے جنہوں نے اپنی قوم کو دین حق کی تبلیغ کی اور شیطان کی راہ پر چلنے سے روکا مگر دنیا کے ابتدائی دور میں اسلام اور کفر کی دو راہیں پیدا ہو گئی تھی۔ وہ باقی رہیں ہندوستان میں بھی نبی آئے ہوں گے۔ وحی آسمانی نے چونکہ ہمیں ان کے نام اور حالات نہیں بتائے اس لئے یقین و اذعان کے ساتھ ہم کسی بزرگ کا نام نہیں لے سکتے کہ وہ اس ملک کے پیغمبر و اوتار تھے۔ بہر حال جو بھی ہوں وہ ہماری نظر میں معزز و محترم ہیں۔ ان کی نبوت پر ہمارا ایمان ہے ظاہر ہے کہ اس ملک میں جو نبی آیا ہوگا۔ اس نے اہالیان ہندو دین حق کی تعلیم سیامنسیا ہو گئی۔ کوئی جاننے والا نہ رہا کہ اس ملک میں جو نبی آیا تھا اس کی تعلیم کیا تھی اور وہ کس زمانے میں آیا تھا۔

Ilm ki Fazilat Sunne ke liye Click Kren 

 بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بیشتر دنیا میں گمراہی کی گھٹا ٹوپ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ فاران کی چوٹیوں سے جب آفتاب نبوت طلوع ہوا مرکز کفر و شرک سے گمراہی کی تاریکی چھٹ گئی۔ عرب کا ذرہ ذرہ نبوت سے تاباں اور درخشاں ہو گیا۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم ختم الرسل اور خاتم الانبیاء تھے۔ آپ دنیا کے سب سے آخری نبی اور رسول تھے۔ پیغمبر آپ کی ذات پر ختم ہو چکی تھی۔ آپ کے بعد آپ کے جانشین خلفائے راشدین اور ان کے بعد صلحائے امر قرار پائے ۔ ان اکابرین ملت نے اپنا فریضہ منصبی پوری ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا۔ پہلی ہی صدی ہجری میں اسلام کی روشنی عرب سے نکل کر اقصائے عالم کو منور کرنے لگی۔ دور افتادہ ممالک بھی اسلام کی روشنی سے جگمگ جگمگ کرنے لگے۔ عہد صحابہ و تابعین میں اسلامی فتوحات سیل رواں کی طرح بڑھیں۔ روم اور فارس کی عظیم طاقتوں کے مغلوب ہو جانے کے بعد کسی طاقت کی مجال تھی کہ اسلام سے ٹکر لیتی جس نے بھی ٹکر لینے کی کوشش کی خود ہی پاش پاش ہوگی۔ مسلمان مختلف ممالک دیار و امصار میں پھیل گئے۔ اس زمانے کے مسلمان اسلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کے اخلاق و اعمال سے متاثر ہو کر دنیا کی قومیں مسلمان ہو گئیں اور وہ وقت آ گیا کہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذ ہب کہلانے لگا اور مسلمانوں کی حکومت وسیاست کے آگے دنیا کو سر خم کرنا پڑا۔

  ہندوستان کے ساحلی مقامات پر مسلمان پہلی صدی ہجری میں آباد ہو گئے تھے۔ اس زمانے کے راجہ موجودہ زمانے کے لوگوں کی طرح کج بحث اور ہٹ دھرم نہ تھے۔ انہوں نے اسلام کی حقانیت کے آگے سر خم کر دیا۔ رفتہ رفتہ ساحلی مقامات پر مسلمانوں کی نو آبادیاں قائم ہو گئیں۔ ہندوستان چونکہ بہت بڑا ملک تھا۔


اس لئے یہاں کے باشندوں کے دلوں میں اسلام کے گھر کرنے میں دیر لگی۔ اس زمانے میں ذرائع آمد و رفت محدود اور تنگ تھے۔ سلطان محمود غزنوی کے حملہ نے ہندوستان کی تاریخ میں ایک نیا باب کھول دیا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کا دریا تیزی سے بہنے لگا۔ شیطانی جیت کیلئے دعوت حق پیغام موت تھی۔ ہندوستان کی متحدہ طاقت اس کے مقابلے کیلئے سامنے آئی۔ پے در پے کئی حملوں میں گو کامیابی نہ ہوئی لیکن چونکہ حق حق ہے اور باطل باطل باطل حق کے مقابلہ میں قدم جما کر نہ ڈٹ سکا۔ حق کو فتح ہوئی۔ باطل کا مغرور سرحق پرستوں کے قدموں میں آکر رہا۔ سلطان محمود غزنوی کے پہلے حملہ کے بعد مسلمانوں سے انتہائی نفرت اور مخالفت کا یہ عالم تھا کہ اس ملک کا کوئی باشندہ کسی مسلمان کی صورت دیکھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ فوراً موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ اجمیر شریف میں اگر کوئی بھولا پچھڑا مسلمان چلا آتا تو اس کی اس مقام پر گردن مار دی جاتی تھی۔ جہاں اب اڑھائی دن کا جھونپر ا موجود ہے۔ 

 


قدرت چونکہ اپنے بندوں پر نہایت شفیق اور رحم ہے۔ اس ملک کی ہدایت کے لئے دربار نبوت سے خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ حضرت خواجہ غریب نواز اس ملک میں تشریف لائے اور اس شان سے تشریف لائے کہ ان کے پاس فوج تھی نہ آلات حرب۔ اجمیر شریف کو اپنی راجدھانی قرار دیا اور بصد عز و شکوہ تمام ملک پر روحانی فرمانروائی کرنے لگے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ دنیاوی بادشاہ نہ تھے۔ روحانی فرمانروا تھے خدا کی غیبی طاقتیں ان کی پشت پر تھیں۔ اجمیر کا راجہ پرتھوی راج حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کی مخالفت پر اپنی طاقت کو حرکت میں لایا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی فرمانروائی کا گھمنڈ سلطان شہاب الدین غوری کی فوجوں کے ہاتھوں خاک میں مل گیا۔ ہندوستان میں ایک چھوٹی سی اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ بعد میں رفتہ رفتہ سارا ملک اسلام کے زیر نگیں آ گیا اور تقریبا 7 صدی تک مسلمان بادشاہ اس ملک پر حکومت کرتے رہے۔

  حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ جس وقت ہندوستان تشریف لائے۔ اس وقت ارواح پر موت کی سی کیفیت طاری تھی دلوں میں شکستگی تھی ۔ جسم گناہوں کے بوجھ سے دبے ہوئے تھے۔ چھوت چھات اور ذات کی اونچ نیچ سے انسانوں کو بہائم کے درجہ پر پہنچا دیا تھا۔ چار بڑی ذاتوں کے علاوہ دوسری ذاتوں کو بڑی ذاتوں کے ساتھ تو کجا درجہ انسانیت تک حاصل نہ تھا۔ روحیں تڑپ رہی تھیں۔ دل بے قرار تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی تشریف آوری سے اس ملک پر باران رحمت برسی تڑپتی روحوں اور بے قرار دلوں کیلئے سامان راحت میسر ہوا۔ رحمت اور برکت کے دریا بہنے لگے۔ فیضان معرفت کے چشمے پھوٹ پڑے۔ ہدایت اور رہنمائی کی شمعیں روشن ہو گئیں۔ ہندوستان کی خشک وادی سبزہ زار بن گئی۔ پیاسے سیراب ہو گئے ۔ ظلمت کا فور ہو گئی۔ اب اجمیر پرتھوی راج کے زمانہ کا اجمیر نہ تھا۔ اجمیر اسلام کی سادگی کا منظر تھا۔ جہاں دن رات قرآن پاک کی تلاوت ہوتی تھی۔ جہاں راتیں ہو حق کے نعروں سے گونجتی رہتی تھیں۔ جہاں پوری پوری رات عبادت ذکر اور تلاوت کلام الہی میں بسر ہوتی تھی ۔ جہاں اونچ نیچ کا کوئی سوال نہ تھا۔ ہر اونچ نیچ کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جاتا تھا۔ جہاں شب و روز و شب ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چرچے رہتے تھے ۔ جہاں اصحاب صفہ کے نمونے کے لوگ ڈھالے جاتے تھے ۔ جہاں استغنا اور ماسوی اللہ سے بے پروائی کا یہ عالم تھا کہ سلاطین ۔ امراء جاگیر دار بڑے بڑے نذرانے پیش کرتے تھے جو پائے حقارت سے ٹھکرا دیے جاتے تھے۔


حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نبی یا رسول نہ تھے مگر ان کا پر تو یا عکس ضرورت تھے۔ ان کے اخلاق اخلاق رسول تھے۔ ان کی زندگی حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا نمونہ تھی۔ ان کے اعمال میں اعمال رسول کی جھلک تھی وارث علوم نبوت و تعلیمات رسالت تھے۔ نائب رسول اللہ تھے۔

        نائب مصطفی دریں کشور

    فخر پیغمبراں معین الدین مینی


حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے محبت و اخلاق کی تلوار سے ہندوستان فتح کیا۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی محبت و اخلاق کی تلوار سے عرب کی سرزمین کو مسخر کیا تھا۔ حضور سرور کائنات نے اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے اپنا تن من قربان کر دیا تھا۔ سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنا تن من اشاعت دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قربان کر دیا۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے گرم ریت اور پتھروں کو طے کر کے مدینہ آباد کیا تھا۔ سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ہزارہا میل کوہستان اور ریگستان طے کر کے اجمیر کو دم قدم سے برکت بخشی۔ سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے اس ملک میں آکر دین کی وہ خدمت انجام دی۔ جو در حقیقت نبی کے درجہ اور مقام کا آدمی ہی انجام دے سکتا ہے۔


#hindustan #history #khajagaribnawaz #hindustankihistory 

No comments:

Post a Comment

حمد اور شکر کی تعریف

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(1)  ترجمۂ کنز الایمان سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔  تفسیر صراط الجنان {اَلْحَمْدُ ل...